تِیرگی بے لباس ، کمرے میں
بن گئی ہے ہِراس کمرے میں
قید احساسِ گل نہیں ہوتا
پھیل جاتی ہے باس کمرے میں
جو مُقَفَّل رہا یہ دَر یوں ہی
گھر بنا لے گی گھاس کمرے میں
نِصف شب ، خواب میں خیال ترا
آگیا بے قیاس کمرے میں
اِک دریچے سے جِھلملاتا ہے
روشنی کا نِکاس کمرے میں
لب تھے محروم لب کشائی سے
جسم تھا بے حواس کمرے میں
سانس تازہ ہَوا کا طالِب تھا
حَبس آیا نہ راس کمرے میں
گَرد آلود ہیں کتابیں سب
مَر رہی ہے اَساس کمرے میں
رات ہوتے ہی جاگ جاتا ہے
ایک شاعر شناس کمرے میں
دیکھ کر حادثہ خیالی اِک
پِھر رہا ہوں اداس کمرے میں
